جمعرات، 14 اگست، 2014

تذکرہ بابا تاج الدین ناگپوریؒ



 علمی سرمایہ 

   حضرت بابا تاج الدین ناگپوریؒ رشتہ میں قلندر بابا اولیاؒء کے نانا تھے - بچپن سے ہی قلندر بابا اولیاؒء  نانا تاج الدین ؒ  کی خدمت میں وقتاً فوقتاً جایا کرتے تھے - عہد شباب میں جب قلندر باباؒ کا میلان تصوف کی جانب ہوگیا تو بابا تاج الدین ؒ  نے انہیں اپنے پاس ہی بلا لیا -

 قلندر باباؒ نے نو سال بابا تاج الدین ؒ کی خدمت میں رہ کر ان کی زیرتربیت گزارے - روحانی تربیت کے زمانے میں بے شمار واقعات میں سے چند واقعات کا تذکرہ اور ان کی علمی توجیہہ قلندر بابا اولیاؒء نے "  تذکرہ تاج الدین بابا " میں فرمائی ہے - اس کتابچہ کے تعارف میں قلندر بابا اولیاؒء تحریر فرماتے ہیں  -  

..."    یہ مختصر تذکرہ ہے اس بات سے متعلق کہ اولیاء اللہ کس طرح سوچتے ہیں اور ان کی باتوں کا اہم موضوع کیا ہوتا ہے -  نانا تاج الدین ؒ کی کرامتوں کا تذکرہ سب سے پہلے گجراتی زبان کی ایک تالیف میں کیا گیا تھا ...
بعد میں ہندی اور اردو میں وہ نسخے مرتب ہوئے جن میں کچھ تو گجراتی زبان کی اس تالیف سے اخذ کیا گیا اور کچھ روایت کے طور پر بہت سے حضرات کے بیان کردہ واقعات اضافہ کئے گئے -  تاہم کسی تذکرہ میں ان مخفی علوم کو نقطۂ نظر نہیں بنایا گیا جن کا تعلق نانا رحمتہ الله علیہ کے ذوق ، طبیعت اور قدرت کی رازداری  سے ہے -


 وہ صرف خصوصی مسائل ہی میں نہیں بلکہ عام حالات میں بھی اپنی گفتگو کے اندر ایسے مرکزی نقطے بیان کرجاتے تھے جو براہ راست قانون قدرت کی گہرائیوں سے ہم رشتہ ہیں - بعض اوقات اشاروں اشاروں میں ہی وہ ایسی بات کہہ جاتے جس میں کرامتوں کی علمی توجیہہ ہوتی اور سننے والوں کی آنکھوں کے سامنے یکبارگی کرامت کے اصولوں کا نقشہ آجاتا -


 کبھی کبھی ایسا معلوم ہوتا کہ ان کے ذہن سے تسلسل کے ساتھ سننے والوں کے ذہن میں روشنی کی لہریں منتقل ہو رہی ہیں اور ایسا بھی ہوتا کہ وہ بالکل خاموش بیٹھے ہیں اور حاضرین من و عن ہر وہ بات اپنے ذہن میں محسوس کرتے چلے جارہے ہیں جو نانا رحمتہ الله علیہ کے ذہن میں اس وقت گشت کر رہی ہے -


بغیر توجہ دیئے بھی ان کی غیر ارادی توجہ لوگوں کے اوپر عمل کرتی رہتی ہے - بعض لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ ہم نے  بابا صاحبؒ کے اس طرز ذہن سے بہت زیادہ فیضان حاصل کیا - یہ بات تو بالکل عام تھی کہ چند آدمیوں کے ذہن میں کوئی بات آئی اور یکایک نانا رحمتہ الله علیہ نے اس کا جواب دے دیا - اردو زبان بولنے میں انہیں اکثر سوچنا پڑتا تھا پھر بھی الفاظ میں کچھ ایسا زور ہوتا کہ سامعین ان کا مافی الضمیر فوراً سمجھ جاتے -   "...✦    


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں