ہفتہ، 28 مارچ، 2015

یاد عظیمؒ -- 6



                                   یاد عظیمؒ 


قلندر بابا اولیاؒء کے دیرینہ دوست سے گفتگو


انٹرویو :  احمد جمال عظیمی -- فرخ اعظم 
راوی   :  محترم نثار علی بخاری صاحب 
اشاعت :  روحانی ڈائجسٹ --  جنوری 1995ء
              ( حصہ سوم )


جمال : آپ پاکستان کب تشریف لائے اور قلندر بابا اولیاء سے ملاقات کب اور کہاں ہوئی -

بخاری صاحب : میں بلند شہر سے میرٹھ اور انبالہ چھاؤنی مشرقی پنجاب ہوتا ہوا لاہور آیا - بھائی صاحب بمبئی سے پانی کے جہاز سے کراچی آگئے اور میں لاہور سے راولپنڈی چلا گیا - یہ شروع 48ء کا واقعہ ہے-
 یہاں کراچی میں ماسٹر فضل صاحب سے جو کہ ہمارے دوست تھے میری خط و کتابت ہوئی - انہوں نے بھائی محمّد عظیم کو بتایا تو انہوں نے خط لکھ کر مجھے کراچی بلایا - کچھ عرصہ بعد میں اپنا کام ختم کرکے راولپنڈی سے کراچی آگیا -

یہاں بڑے حضرت جی جن کا اسم گرامی ابوالفیض قلندر سہروردی تھا ان سے آپ نے بیعت فرمائی اور اس کے بعد انہوں نے مجھ سے دسمبر 55ء کے آخر میں کہا کہ بھائی شروع مئی میں ، میں ایک خوشخبری سناؤں گا - میں نے کہا ابھی سنا دیجئے - کہنے لگے نہیں کام ہونے کے بعد سنانا اچھا ہوتا - میں خاموش ہوگیا -
 چنانچہ جب مئی کا مہینہ آیا اور وہ پیر الہی بخش کالونی میں میرے پاس تشریف لائے تو میں خوشخبری سننے کے لئے بے چین تھا - میں نے کہا بھائی اب تو مئی کی تیسری یا چوتھی تاریخ ہوگئی ہے - تو کہنے لگے ہاں اب میری نئی زندگی شروع ہوئی ہے -
میں نے پوچھا وہ کیسے - کہنے لگے کہ پچھلی زندگی سب ختم ہوگئی ہے اور میں قلندر صاحب موصوف سے بیعت ہوگیا ہوں اور وہ جو تربیت دے رہے ہیں میں اس پر عمل کر رہا ہوں -  
بھائی صاحب نے رات میرے گھر قیام کیا بارہ ایک بجے کے قریب ایک جگہ دھوئی اور مجھ سے کہا آپ سوجائیں میں کچھ پڑھوں گا - وہ کھڑے کھڑے پڑھتے رہے لیکن مجھ کو نہیں معلوم وہ کیا پڑھ رہے تھے - 

جمال : کیا سلسلہ کے متعلق کبھی انہوں نے آپ سے کچھ فرمایا -

بخاری صاحب : یہ مجھے معلوم ہے کہ جب وہ کسی کو بیعت کرتے تھے تو وہ ضابطگیاں جو دوسرے سلسلوں میں ہوتی ہیں مثلا ہاتھ میں ہاتھ لینا ، رومال پکڑوانا یا کچھ اور اس قسم کی باتیں وہ کچھ نہیں ہوتی تھیں - بس یہ کہہ دیا کرتے تھے کہ آپ سلسلہ میں ہیں اور جو اسباق ہوتے تھے وہ پڑھنے کو بتا دیا کرتے تھے -
 ان کی محفل میں سب برابر کی حیثیت سے بیٹھتے تھے حتیٰ کہ وہ اپنی بھی کوئی مخصوص نشست نہیں رکھتے تھے - آپ اپنے مریدین کو جناب اور آپ کے سوا مخاطب نہیں کرتے تھے اور حفظ مراتب کا بھی بہت خیال رکھتے تھے - گفتگو بھی اس قسم کی کرتے کہ جس سے کسی کی دل شکنی نہ ہو - میرا خاص طور پر خیال رکھتے تھے -


روحانی ڈائجسٹ    جنوری 1995ء

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں