ہفتہ، 23 نومبر، 2013

ہمدم دیرینہ--18


خلافت


  میں قلندر بابا کے سلسلہ عالیہ کے معاملات میں مداخلت کرنا پسند نہیں کرتا لیکن راٹھور صاحب کے اصرار پر میں نے قلندر بابا سے معذرت کے ساتھ عرض کیا کہ راٹھور صاحب خلافت کی بابت دریافت کرنا چاہتے ہیں .. اس پر قلندر بابا نے فرمایا کہ ...

" میری نظر میں سب ہے راٹھور صاحب سے کہہ دینا کہ انہیں کیا فکر ہے ان کی دنیا و دین ٹھیک ہیں اور انشاء الله تعالیٰ  آئندہ اور ٹھیک ہوجائیں گے .. جب وقت آئے گا خلافت کا مسٔلہ بھی طے ہوجاۓ گا ویسے شمشاد و رؤف کی طرح وہ بھی میرے بیٹے ہیں " -

  چنانچہ میں نے آپ کا ارشاد راٹھور صاحب سے کہہ دیا - 

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ میں نے قلندر بابا سے عرض کیا کہ مجھے بھی اپنے سلسلے میں شامل کر لیجئے .. یہ سن کر آپ  مسکراۓ اور فرمایا کہ ...
" بھائی آپ ہی تو میرے بچپن کے ساتھی اور بے تکلف دوست ہیں .. یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ میں آپ سے بعیت لوں آپ مجہہ سے جدا نہیں ہیں اور ارادت تو دل سے ہوتی ہے .. بھائی میں جانتا ہوں کہ آپ اگر بہتر (72) گھنٹے متواتر جاگ کر جو وظیفہ بتاؤں وہ پڑھ لیں .. پھر دیکھنا کیسے کیسے عجائبات کا مشاہدہ ہوتا ہے انشاء الله برسوں کی راہ ایک ہفتہ میں طے کرا دوں گا " -

 مگر بد قسمتی سے میری بہتر(72)  گھنٹے جاگنے کی ہمت نہ ہوئی اور میں نعمت عظمیٰ سے محروم رہا -  ویسے قلندر بابا کی  ہمیشہ مجہہ پر  نظر کرم و التفات رہی جس کا میں ممنون ہوں -

                                                          تحریر --- سید نثارعلی بخاری

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں