اتوار، 9 فروری، 2014

تعلیمات سلسلہ عظیمیہ


ارشادات ، واقعات ، تعلیمات  اور  طرز فکر 




سلسلہ عظیمیہ کے سربراہ خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب تمام سالکین اور سلسلہ سے وابستہ اپنی روحانی اولاد کو حضور قلندر بابا اولیاؒء  کی تعلیمات اور طرز فکر سے روشناس کراتے ہوئے فرماتے ہیں ...


 حضور قلندر بابا اولیاؒء  کی تعلیمات اور طرز فکر اور جس طرح انہوں نے سائنٹفک طریقے پر لاجک کی بنیاد پر روحانیت سے نوع انسانی کو آشنا کیا ہے اس کا مختصر مگر جامع لب لباب یہ ہے کہ ہر انسان کا باطن روح اور روح الله کی دوست ہے -


جب سے انسان نے اپنے باطن سے نظریں چرائی ہیں الله کا دشمن بن گیا ہے اور یہ دشمنی ہی بے سکونی ہے - پریشانی اور اضطراب ہے - یہ کیسا ظلم ہے یہ کیسا ستم ہے .. یہ کس قسم کی ناشکری اور کفران نعمت ہے کہ ہر آدمی کے اندر سکون کی نہریں بہہ رہی ہیں اور وہ ان نہروں کی طرف نہیں دیکھتا -جب بھی دیکھتا ہے باہر دیکھتا ہے اور پریشانی کو زندگی کہتا ہے اور پریشانی سے بچنا بھی چاہتا ہے -جب بھی آواز دیتا ہے ذہنی خلفشار کو بلاتا ہے -


روحانی علوم میں مراقبہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے -مراقبہ کا مطلب ہے کہ انسان ظاہری وجود سے ذہن کو  ہٹا کر اپنے باطنی وجود کو تلاش کرے - انسان ظاہری رخ دنیا کو فکشن اور عارضی قرار دے کر مستقل اور قائم رہنے والی دنیا کی طرف توجہ دے جو کہ اس کے اندر موجود ہے -


ہمیں جو کچھ نظر آرہا ہے یہ دھوکا اور فریب ہے - اگر دنیا کی زندگی فریب نہیں ہے تو مرنے کے بعد دنیا ہمارے کام کیوں نہیں آتی -

جب سالک مراقبہ کرتا ہے اور گہرائیوں میں اتر جاتا ہے تو گہرائی میں اسے باطنی وجود نظر آتا ہے -الله تعالیٰ خود فرماتے ہیں جہاں تم ایک ہو وہاں میں دوسرا ہوں اور جہاں تم دو ہو وہاں میں تیسرا ہوں -اس کا کیا مطلب ہوا -الله تعالیٰ فرماتے ہیں .. الله ہر چیز پر محیط ہے    ہر شے بشمول انسان الله کے احاطہ میں ہے -


 یہ ایک دائرہ ہے جس دائرے سے کوئی باہر نہیں نکل سکتا -  میں تمہاری ابتداء ہوں میں تمہاری انتہاء ہوں میں تمہارا ظاہر ہوں تمہارا باطن ہوں - تمہاری رگ جاں سے اربوں کھربوں گنا زیادہ تم سے قریب ہوں .. پھر بھی کوئی انسان یہ کہے کہ الله کو ہم نہیں دیکھ سکتے ، یہ سراسر جہالت ہے -


مراقبہ ایک ایسا عمل ہے کہ اگر خلوص نیت اور مستقل مزاجی سے کیا جائے تو الله تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق کہ میں انسان کے اندر ہوں .. سالک دیکھ لیتا ہے -



  میں نے ایک دفعہ مرشد کریم حضور قلندر بابا اولیاؒء سے عرض کیا کہ الله تعالیٰ کی سنت مشیت اور عادت رحم ہے -قرآن میں اگر کہیں عذاب کا تذکرہ بھی ہے تو وہاں بھی الله تعالیٰ نے یہ ضرور فرمایا ہے کہ الله رحم کرنے والا ، معاف کرنے والا ہے - کوئی بھی آیت جہاں عذاب کا تذکرہ آیا ہے وہاں اتنا رحیم و کریم الله ہم کمزور و ناتواں کو دوزخ میں کیسے ڈالے گا ؟ 


مرشد کریم نے کہا کہ نہیں الله تو دوزخ میں نہیں ڈالے گا - میں نے کہا ، حضور جنت کا تو کوئی تذکرہ ہی نہیں کرتا .. سبھی دوزخ کا تذکرہ کرتے ہیں - انہوں نے فرمایا کہ خواجہ صاحب بات یہ ہے کہ جس کے اندر جو چیز ہوتی ہے وہی باہر آتی ہے - اگر دوزخ اندر بھڑک رہی ہے تو دوزخ ہی کی آوازیں نکلیں گی -


 سیدنا حضورعلیہ الصلوٰة والسلام  کے وارث ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء سے ہماری نسبت ہے - یہ ہماری نسبت ہے - یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ الله تعالیٰ نے ہمیں اپنے محبوب صلّ الله علیہ وسلّم  کے محبوب تک پہنچا دیا ہے اور اس محبوب بندے نے اپنی روحانی اولاد سے کوئی چیز چھپا کر نہیں رکھی ..
 سب عیاں کردیا ہے کہ فلاں فائل میں یہ اسرار فائل ہیں - فلاں فائل میں یہ رموز ہیں - فلاں مقام تک پہنچنے میں یہ عمل کرنا اور فلاں مقام تک پہنچنا اس وقت ممکن ہے جب آدمی خود کی نفی کرے -

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں